گزشتہ دس روز سے اسلامی اور جمہوری پاکستان کے مالیاتی بینکوں میں غیر معمولی رش ہے۔ سٹیٹ بینک نے امسال زکواہ کا نصاب 35575 مقرر کیا ہے۔ ظاہر ہے صارفین کی بڑی تعداد نے بینکوں کا رخ کیا اور ہر سال کی طرح اس مرتبہ بھی زاکواہ کی کٹوتی سے پہلے ہی اپنی رقوم کو محفوظ کرلیا ۔ یکم رمضان سے پہلے اربوں روپے پاکستانی بینکوں سے نکلوائے گئے مگر بنک انتظامیہ کو زیادہ پریشانی نہیں کیونکہ ہر سال اسی طرح سے پاکستان کے مالی معاملات نمٹائے جاتے ہیں۔
پاکستان کے سابق فوجی صدر جنرل ضیا الحق کے بنائے ہوئے قوانین کے مطابق ہر سال یکم رمضان کو بینک اکاونٹ میں موجود سٹیٹ بینک کے مقرر کردہ نصاب کے مطابق زکواہ کی کٹوتی کی جاتی۔ یادرہے یہ کٹوتی صرف نفع نقصان کی بنیاد پر بنائے گئے اکاونٹ پر وصول کی جاتی ہے۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں نفاذ اسلام کی قانون سازی کے وقت سود کو نفع کا نام دیا گیا تھا۔ اور اسی حوالہ سے پاکستان میں مالیاتی اصطلاحات میں ردوبدل بھی کی گئی تھی۔ اگر غور کیا جائے تو آج پاکستان کے بیت المال میں سود وصول کرنے والے صارفیں ہی زکواہ ادا کر رہے ہیں۔ کینکہ سود وصل نہ کرنے والے کرنٹ اکاونٹ کے صارفین زکواہ سے مستثنیٰ ہیں۔
پاکستان میں ایسے قانون پر بحث کی کوئی گنجائش نہیں جس کے مطابق صرف سود وصول کرنے والے ہی زکواہ کے قوانین کی زد میں آتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ قرآن پاک میں سود کو اللہ کے خلاف اعلان جنگ کہا گیا ہے۔ کیا زکواہ اد کر کے سود سے بڑھنے والی رقم پاک ہو جائے گی؟ یا بینکوں میں رقوم کے منافع سے حاصل کی گئے زکواہ مال کی پاکیزگی کی ضمانت سمجھا جائے؟
پاکستان کے مالیاتی اداروں نے اسلامی بینکنگ سے متعلق فتاویٰ کے حصول کے لئے علما کی خدمات بھی حاصل کی ہوئی ہیں اس لئے جہاں سود آ جائے ہمیں پریشان ہونے کی چنداں ضرورت نہیں۔ شاید یہ پاکستان کا واحد قانون ہے جہاں کوئی بھی ریاست پر سوال نہیں اٹھاتا
آئندہ ہفتہ بھی پاکستان کے بینکوں میں رش ہی رہے گا اور روزہ دار صارفین قطاروں میں کھڑے زکواہ کی کٹوتی سے بچ جانے والی رقوم کو ایک مرتبہ پھر بنک کی محفوظ تجوری کے سپرد کر کے اپنے اپنے مسالک کی عبادت گاہوں میں اعتکاف جا بیٹھیں گے تاکہ دنیاوی امور ان کی عبادات میں مخل نہ ہوں
Friday, 10 June 2016
Friday, 20 November 2015
فیض احمد فیض اور اقبال بانو ۔ اظہار اور جراٰت اظہار؟
ہم دیکھیں گے۔۔۔
کیا یہ ممکن ہے کہ فیض احمد فیض صاحب کی شاعری کا تذکرہ ہو اور ہم دیکھیں گے کی بازگشت نہ سنائی دے؟
در حقیقت یہ فیض صاحب کی شاعری نہیں تھی بلکہ جیسے طبقاتی استحصال کے شکار عوام کے جذبات کو الفاظ مل گئے اور اقبال بانو صاحبہ نے اس نظم کو انتہائی غیر محسوس انداز سے پاکستان میں بائیں بازو کا ترانہ بنا دیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ فیض صاحب کے کلام میں شائد ہی کسی اور نظم کو عوامی سطح پر اتنی پذیرائی ملی ہو جتنا اقبال بانو نے اس کلام کو دوام بخش دیا۔
پاکستان میں فیض صاحب کے مداحوں کی اکثریت کو شائید یہ معلوم نہ ہو گا کہ فیض احمد فیض نے جنرل ضیاالحق کی درخواست پر اس مقبول ترین نطم کو اپنی کلیات نسخہ ہائے وفا سے حزف کر دیا تھا۔ اس حقیقت کو جاننے کے بعد یہ عقدہ بھی کھلتا ہے کہ اس کلام میں فیض صاحب کے الفاظ تو ہیں مگر جرات اظہا ر کا کریڈٹ اقبال بانو کو ہی دینا ہو گا۔ مت بھولیں کہ ۱۹۸۰ کا عشرہ ہو۔ ایک پاکستانی خاتون اور موسیقی ۔ یقینا اقبال بانو کا آہنی حوصلہ ہی اس نظم کو امر کر گیا۔
برطانیہ کا آئین کہیں تحریری شکل میں تو موجود نہیں مگراس نے ایک عظیم ایمپائر کی بنیاد رکھی بالکل اسی طرح ایک آمر نے قرطاس سے الفاظ کو تو مٹا دیا مگر اقبال بانو نے اپنی آواز سے عوامی امنگوں کی تعبیر رقم کر دی۔
Monday, 16 November 2015
Democracy in South Asia
South Asian region is giving a wakeup call to the West where democracy is becoming a name of extremism. India, Pakistan, Sri Lanka and even Burma has seen extremist elements assuming charge of the governments through the power of vote - only to teach lesson to minority communities.
Monday, 28 September 2015
India Pakistan Relations - madness has no bounds
India Pakistan peace is not possible unless political leaders from both the countries decide to lead the talks as well as peace initiatives.
How ironic is the fact that Mr Modi heads the largest democracy of the world yet he shies away from accepting democracy in Kashmir while Pakistanis always scorn democracy in their own house hold and want military to take the lead in country at the same time expecting Indians to ensure democracy in Kashmir.
Narratives from both the sides appear outcome of diplomatic fallacies... do you agree?
When it comes to India Pakistan relations, the leaders from the two countries duck down under public pressures.
Pakistan sinks in religious extremism.
Modi and Muslim massacre
How ironic is the fact that Mr Modi heads the largest democracy of the world yet he shies away from accepting democracy in Kashmir while Pakistanis always scorn democracy in their own house hold and want military to take the lead in country at the same time expecting Indians to ensure democracy in Kashmir.
Narratives from both the sides appear outcome of diplomatic fallacies... do you agree?
When it comes to India Pakistan relations, the leaders from the two countries duck down under public pressures.
Pakistan sinks in religious extremism.
Modi and Muslim massacre
Saturday, 26 September 2015
Reason for Saudi accidents: Royal family?
Royal Family of Saudi Arabia is being considered major reason for increasing deaths of Muslims all over the world. Increasing financial expenditures by princess and princesses have placed pressures on otherwise faltering Saudi economy.
Saudi Arabia's economy is facing pressures due to lowered oil prices a trend that is expected to further accelerate after apparent lifting of sanctions from Iran by the West. Fearing threat from the dissidents within the family, the Kingdom had increased the stipends of royal family members besides launching youth welfare program.
The additional expenses were to be met by increasing tourism via Haj. A massive expansion program was initiated in haste and in order to save the time required to remove inactive cranes from the site.
Saudi Arabia's economy is facing pressures due to lowered oil prices a trend that is expected to further accelerate after apparent lifting of sanctions from Iran by the West. Fearing threat from the dissidents within the family, the Kingdom had increased the stipends of royal family members besides launching youth welfare program.
The additional expenses were to be met by increasing tourism via Haj. A massive expansion program was initiated in haste and in order to save the time required to remove inactive cranes from the site.
Is it possible to converge over 3 million pilgrims at one point - Mina - in one single day? Despite being incapacitated, Saudi Government tries to expand and increase the number every year. Faith Economy contribute a major share to Saudi Arabia's economy. Many faithful are raising question if it is wise to spend Haj money in Saudi Arabia's war over Yemen? Or is it possible that Haj Economy be handed over to an OIC designated board instead of Saudi Royal family already becoming a source of embarrassment for Muslims among international community?
The frustration is increasing as the aged authoritarian rulers of Saudi Arabia are struggling to keep a grip on the power in a changing world. There is a large segment of Muslim intelligentsia believing that Haj money requires to be accounted for and its disposal be made transparent by making the data available on the Website. On average a pilgrim spend US 4000 $ during Haj (Fortune / Washington post statistics) MOre than 3 million pilgrims and where the money goes??? A colossal amount it is and Muslim world remains under developed as the officially sanctions Islam of Saudi Family does not allow any other country to even maintain religious site other than mosques.
Saturday, 5 September 2015
European Migrant Crisis - Lessons from Pakistan
European Migrant Crisis
Europe needs a good dictator like Zia ul Haq who can safely provide home to refugees and at the same time Zakat donation collection to meet the financial burden. The country has to be Egypt where these refugees could easily integrate into the society and at the same time provide opportunities to ruling regimes get more stability. Do you agree?
Sunday, 2 August 2015
ملا عمر کا آسیب
جب ملا عمر کی ہلاکت کی خبر بی بی سی سے نشر ہوئی تو کوئی اچنبے کی بات نہ تھی۔ یہ بھی بتایا گیا کہ اسامہ بن لادن کے میزبان کی ہلاکت دو سال پیشتر پاکستان میں دو سال پیشتر ہوئی۔
ملا عمر کا اسامہ بن لادن سے تعلق اپنی جگہ مگر ان کی اصل وجہ شہرت یہ تھی کہ ان کی تصویر حاصل کرنا نا ممکنات سے رہا۔ ایک عشرہ سے زیادہ مدت وہ دنیا بھر کے صحافیوں اور ایجنسیوں کے اعصاب پر چھائے رہے۔ پاکستان میں ملاعمر کی ہلاکت میں حیرت کی کوئی بات نہیں کہ بھوت پریت تہزیبوں سے دور کھنڈرات ہی میں بسیرا کرتے ہیں اور دور حاضر میں پاکستان اور افغانستان ہی تہزیب سے دور رہے۔
پاکستان تو پے در پے طالع آزماوٗں کے رحم و کرم پر رہا جبکہ جنگ کی آگ افغانستان پر برس رہی تھی ایسے میں ان دیکھے افسانوی کردار تہزیبوں سے زیادہ محفوظ دکھائی دیتے ہیں۔ ظلمت کی تیرگی میں قوموں کے رکھوالے اپنے معصوم عوام کو ایسے ہی کرداروں سے دھمکا کر سلانے کی کوششیں کرتے ہیں۔
جب کسی معاشرے سے تہذیب رخست ہو جاتی ہے تو سماجی نا انصافیاں معاشروں کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیتی ہیں اور پھر یہاں بھوت پریت بسیرا کرتے ہیں۔
ملا عمر کا کردار ببی کچھ اسی طرح کا ہے۔ ابلاغ کی اطلاعات تو یہ بھی بتاتی ہیں کہ ملا عمر کی صاحبزادی اسامہ بن لادن کے عقد میں تھیں اگر ایسا ہے تو داماد کو پناہ دینے والے کو بہت ہی معصوم سمجھا جانا چاہئے؟ بہر حال جب سوویت جہاد کے لئے ڈالر مل رہے تھے توبہت سے لوگوں نے گھوسٹ مدرسے بنا ڈالے۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے ملل عمر کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں تھا ۔ مللا صاحب کی ذیارت بھی صرف انھی لوگوں کو نصیب ہوئی جو حکومت وقت کے منظور شدہ صحافی تھے ۔ جی ہاں منظور نظر کے لئے اس سے بہتر الفاظ ہماری سوچ سے باہر ہیں۔ بہت سے لوگ تو آج بھی یہ سمجھتے ہیں کہ جنرل حمید گل کی تمام تر ظاقت ان کی فیس بک آئی ڈی نہیں بلکہ فیس لیس آئی ڈی تھی۔ جمہوریت کے تسلسل سے پاکستان میں یہ پرچھائیاں ختم ہوتی نظر آ رہی ہیں
Subscribe to:
Posts (Atom)




